سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے شعبۂ تعلقات عامہ نے کویت کے عوام کے نام ایک پیغام میں کہا: بعض اوقات کہا جاتا ہے کہ ایران نے اپنے حملوں سے ممالک کی آزادی، علاقائی سالمیت اور خودمختاری کی خلاف ورزی کی ہے، حالانکہ یہ سوچ مکمل طور پر غلط ہے۔ ہمارے نزدیک آپ کی ریاستی آزادی، علاقائی سالمیت اور خودمختاری مکمل طور پر قابل احترام ہے۔
بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ سپاہ نیوز کی رپورٹ کے مطابق، سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے شعبۂ تعلقات عامہ کا بیان درج ذیل ہے:
بِسْمِ اللهِ الْقَاصِمِ الْجَبَّارِينَ
﴿وَقَٰتِلُوهُمۡ حَتَّىٰ لَا تَكُونَ فِتۡنَةࣱ﴾
کویت کے معزز اور شریف باشندو!
سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی میں آپ کے مجاہد بھائیوں نے طفل کُش امریکی فوج کی تعزیر اور آبنائے ہرمز میں اس کی مداخلتوں کے جواب میں، علی السالم ایئر بیس میں اس کے فوجی سازوسامان کے ایک بڑے گودام، ایک پیٹریاٹ فضائی دفاعی نظام اور ایک MQ9 ڈرون ہینگر کو ڈرون حملے کا نشانہ بنا کر تباہ کر دیا۔
آپ کے بھائیوں نے العدیری چھاؤنی میں امریکی فوجیوں کی ایک رہائش گاہ اور ہیلی کاپٹروں کے دو ہینگرز پر بھی حملہ کیا اور جارح فوجیوں کی ایک تعداد کو ہلاک اور زخمی کرنے کے علاوہ، متعدد ہیلی کاپٹروں اور ڈرونز کو تباہ یا شدید نقصان پہنچایا۔
مجاہدین نے ایران میں مواصلاتی ٹاورز پر امریکی حملوں کے جواب میں کویت میں ایک امریکی مواصلاتی ٹاور کو بھی نشانہ بنا کر تباہ کر دیا۔
بعض اوقات کہا جاتا ہے کہ ایران نے اپنے حملوں سے ممالک کی آزادی، علاقائی سالمیت اور خودمختاری کی خلاف ورزی کی ہے، حالانکہ یہ سوچ مکمل طور پر غلط ہے۔ ہمارے نزدیک آپ کی ریاستی آزادی، علاقائی سالمیت اور خودمختاری مکمل طور پر قابل احترام ہے۔
دوسرے ممالک میں امریکی اڈہ کیسی جگہ ہوگی؟ ایک ایسی جگہ جہاں آپ کی بارڈر کنٹرول کے بغیر امریکی اور ـ جو وہ چاہیں، ـ بعض اوقات دوسرے ممالک کے قیدیوں کو لاتے ہیں اور لے جاتے ہیں؛ ایسی جگہ جہاں امریکی فوج کی ملٹری پولیس نظم و ضبط قائم کرتی ہے نہ کہ آپ کی فوج یا پولیس۔ وہاں ہونے والے جرائم پر امریکی جج فیصلہ کرتا ہے نہ کہ آپ کا جج! وہاں امریکی قانون نافذ ہے نہ کہ آپ کا قانون، نہ صرف آپ کے فوجی بلکہ آپ کا وزیر دفاع بھی امریکی پولیس کی اجازت کے بغیر وہاں داخلے کا مجاز نہیں ہے۔
پس یہ امریکہ ہے جس نے آپ کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کی خلاف ورزی کی ہے اور اس پر قبضہ کر لیا ہے، نہ کہ ہم۔ ہم ان زمینوں پر حملہ کر رہے ہیں جن پر امریکی فوج نے قبضہ کر رکھا ہے۔ ایسی فوج جو جرم کے سوا کچھ کرنا نہیں جانتی اور نہیں چاہتی۔
گذشتہ روز، میناب کے سوگوار لوگوں نے اپنے طالب علم بچوں کی لاشوں کے باقی ماندہ ٹکڑوں ـ جو ملبے تلے تلاش کے دوران برآمد ہوئے تھے، ـ کی تشییع کی اور ان لاشوں کو سپرد خاک کیا۔ وہ 168 ننھے طالب علم تھے جو اس جنگ کے پہلے دن طفل کُش امریکی فوج کے حملے میں شہید ہوئے اور یہ جرائم جاری ہیں اور اس کا ایک حصہ کویت کی سرزمین پر امریکی اڈوں کا استعمال کرکے کیا جا رہا ہے اور یہ ہمارا قانونی، شرعی اور منطقی حق ہے کہ ہمارے ملک پر حملہ کرنے والوں اور ہمارے بچوں کے قاتل کو ـ چاہے وہ جہاں بھی ہوں ـ نشانہ بنائیں۔
ہم آپ کے تعاون کے شکرگزار ہیں۔
﴿وَمَا النَّصْرُ إِلَّا مِنْ عِنْدِ اللَّهِ الْعَزِيزِ الْحَكِيمِ﴾
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ